ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلہ دیش، روہنگیا مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

بنگلہ دیش، روہنگیا مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی

Tue, 05 Sep 2017 20:03:11    S.O. News Service

ڈھاکہ،5ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)متعدد پولیس چوکیوں اور ایک فوجی اڈے پر منظم حملوں کے بعد میانمار کی سکیورٹی فورسز نے راکھین ریاست میں مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ چند روز کے دوران اس شدید کریک ڈاؤن کی وجہ سے راکھین ریاست سے سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا افراد کی تعداد ایک لاکھ تیئس ہزار ہو چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCRکے ترجمان جوزف ترپورا نے منگل کے روز بتایا، ہمارے اندازوں کے مطابق 25اگست کو راکھین میں تشدد کے واقعات کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ تیئس ہزار روہنگیا سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔یہ مہاجرین خوراک، سر چھپانے کی جگہ اور طبی مدد کے منتظر ہیں۔ تراپورا کے مطابق جنوب مشرقی بنگلہ دیشی ضلع کاکس بازار کے تمام پرانے مہاجر مراکز اور قریبی اسکول اور کمیونٹی سینٹر ان مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔روہنگیا افراد کی یہ نقل مکانی25اگست کومبینہ روہنگیا عسکریت پسندوں کے حملوں اور پھر سکیورٹی فورسز کے جوابی حملوں میں کم از کم چار سو افراد کی ہلاکتوں کے واقعات کے بعد شروع ہوئی۔خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سینکڑوں افراد دونوں ممالک کی سرحد کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ درجنوں بنگلہ دیش پہنچنے کی کوشش میں ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا افراد کا الزام ہے کہ سکیورٹی فورسز روہنگیا کے قتلِ عام، جنسی زیادتیوں اور تشدد کے ذریعے راکھین ریاست سے ان کا قلع قمع کرنا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب میانمار کی فوج کا موقف ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے حملوں کے جواب میں یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سن 1990اور پھر سن 2012ء میں راکھین ریاست میں ہونے والے فسادات سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مہاجرین کے لیے بنائے جانے والے مہاجر کیمپوں میں ان نئے مہاجرین کو جگہ دی جا رہی ہے، تاہم یہ مہاجر مراکز اپنی گنجائش کی حدِ آخر کو چھو رہے ہیں۔ جب کہ مہاجرین کی تعداد میں مسلسل اضافے کے تناظر میں اقوام متحدہ خیمہ بستیاں قائم کرنے میں مصروف ہے۔جرمن حکام اب قانونی طور پر مہاجرین کے موبائل فون کا جائزہ لے کر ان کی حقیقی شناخت اور آبائی وطن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے مجازہیں۔موبائل فون ریکارڈ کا جائزہ لینا ایک درست اقدام ہے۔ پناہ کے درخواست گزاروں کے لب لہجے کا تجزیہ اور فون کا ریکارڈ دیکھ کر حکام اب ان کی حقیقی شناخت اور آبائی وطن کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ اقدامات کرنے میں جرمنی نے کافی تاخیر کی ہے۔مہاجرت اور ترک وطن سے متعلق وفاقی جرمن ادارے (بی اے ایم ایف)کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی آنے والے ساٹھ فیصد کے قریب تارکین وطن کے پاس شناختی دستاویزات نہیں ہیں۔ زیادہ تر پناہ گزین دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی دستاویزات دوران سفر کھو گئی تھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت کے پاس قیمتی اسمارٹ فون موجود ہوتے ہیں۔شناخت نہ ظاہر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پناہ کی درخواست دینے والے افراد کو معلوم ہے کہ شامی مہاجرین کو جرمنی میں آسانی سے پناہ مل جاتی ہے۔کئی دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین شامی شہری ہونے کا دعویٰ اسی لیے کرتے ہیں۔جرمنی میں پناہ کی درخواستیں جمع کرانے والے افراد کی بڑی تعداد کے باعث بی اے ایم ایف کے اہلکاروں پر کافی دباؤ تھا اور ہے، اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کئی تارکین وطن ایسے فراڈ کر پاتے ہیں۔جرمن فوج کے ایک اہلکار فرانکو اے کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ فرانکو سے انٹرویو لینے والے اہلکار نے اس سے کئی بنیادی سوال پوچھے ہی نہیں تھے۔ اس معاملے کے بعد یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ اگر ایک جرمن اس قسم کا فراڈ کرنے میں کامیاب رہا ہے تو اور کتنے ایسے واقعات رونما ہوئے ہوں گے؟ علاوہ ازیں درجنوں ایسے کیس بھی سامنے آئے کہ ایک ہی تارک وطن نے متعدد جرمن ریاستوں میں رجسٹریشن کراتے ہوئے ہر ماہ ایک سے زائد جگہوں سے سماجی مراعات حاصل کیں لیکن اب ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متعدد ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں۔ شناخت کے بارے میں کسی شک کی صورت میں موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کرنا بھی ایسا ہی ایک ضابطہ ہے۔جرمنی میں پناہ کے حصول کے خواہش مند ایسے افراد کو، جنہوں نے کسی فراڈ سے کام نہیں لیا، اہلکاروں کی جانب سے شک کی صورت میں اپنا موبائل اور تمام ریکارڈ جمع کرا دینا چاہیے۔ اس میں ان کا فائدہ بھی ہے۔بات ذاتی ڈیٹا اور پرائیویسی کی نہیں ہے اورحقوق بھی صرف مہاجرین اور تارکین وطن ہی کے نہیں ہیں بلکہ انہیں قبول کرنے والے میزبان معاشرے کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سیاست دان کہتے ہیں کہ ہمیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ہمارے ہاں آ کون رہا ہے؟ طویل عرصے تک سیاست دانوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی، لیکن اب آخرکار مہاجرین کو اپنی اصل پہچان بتانا پڑے گی۔


Share: